نالہ لئی ہر سال کیوں چڑھتا ہے، اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟

مانا کہ قدرتی آفات پر کسی کا زور نہیں چلتا، پر سوال یہاں یہ ہے کہ ان سے نمٹنے کے انتظامات آخر کیوں نہیں کیے جاتے؟ ہر سال سیلاب آتا ہے۔ اس سال نالہ لئی کی صفائی کے لیے 8 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، اور برسات شروع ہوئی تو اس کام کا پندرہ فیصد بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔
کچی آبادیوں میں مٹی کے گھروں کی بات تو نہ ہی کریں، اب تو شہر کے پوش علاقے، جن میں ڈی ایچ اے سرفہرست ہے، ڈوب جاتے ہیں اور لوگوں کا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔ پچھلے سال ہونے والا سانحہ، جب ریٹائرڈ کرنل اور ان کی بیٹی ڈی ایچ اے اسلام آباد میں گاڑی سمیت سیلاب میں بہہ گئے تھے، آپ کو یاد ہی ہو گا۔
خیر، سوال یہ ہے کہ حکومت کہاں سو رہی ہے، جسے یہ سب نظر نہیں آتا۔ پر کیا یہ کام حکومت کا ہے؟ کیونکہ ہم اکثر ہر بات کے لیے وزیرِ اعظم اور حکومت کا نام لے دیتے ہیں۔ اس کا جواب ہے، ہاں یہ حکومت ہی کا کام ہے، مگر یہ ذمہ داری وفاقی یا صوبائی حکومت کی نہیں کہ وہ ان علاقائی مسائل کو دیکھے، بلکہ مقامی حکومت کی ہے۔
آئین کے آرٹیکل 140A کے مطابق یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقامی حکومت قائم کرے، جو اس علاقے کے مسائل دیکھے، جن میں صفائی اور نکاسیٔ آب شامل ہیں، اور لوگ اپنے مسائل لے کر اسی کے پاس جائیں۔ اور اسے فنڈ دینا بھی صوبائی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔
پر یہاں پاکستان میں شاذ و نادر ہی اس پر عمل ہوتا ہے۔ پنجاب میں 2015 کے بعد بلدیاتی انتخابات ہوئے ہی نہیں، اور اب ان کی تاریخ دسمبر 2026 رکھی گئی ہے۔ گیارہ سال۔ ایک ایسے کام کے لیے جو آئین فرض قرار دیتا ہے۔
تو جو فنڈ عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہونا چاہیے تھا، وہ ہوا کہاں؟ اور عوام کس کے پاس جائیں آخر اپنی فریاد لے کر؟
